کیا آپ فنکار کی عظمت کا راز جانتے ہیں؟

0
598

چند دن پہلے میں اپنے گھر سے دس میل دور ایک سنیما ہال میں FREDDIE MERCURY کی زندگی اور فن پر بنائی گئی فلم BOHEMIAN RHAPSODY دیکھنے گیا لیکن نہ دیکھ سکا کیونکہ شو SOLD OUT تھا پھر میں بیس میل دور ایک اور سنیما ہال میں گیا وہاں بھی وہ شو سولڈ آؤٹ تھا۔ آخر میں نے اپنی دوست زہرا نقوی کو فون کیا اور مجھے وہ فلم اپنے گھر سے پچاس میل دور ٹورانٹو جا کر دیکھنی پڑی۔ وہاں بھی ہال بھرا ہوا تھا لیکن خوش قسمتی سے ہمیں دو ٹکٹیں مل گئیں۔ اس واقعہ سے آپ کو اندازہ ہو گیا ہوگا کی فریڈی مرکری اس دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی اپنے فن اور اپنے پرستاروں کے دل میں زندہ ہے۔ اس سال کے GOLDEN GLOBE AWARDS میں بہترین فلم اور رمی ملک کے بہترین ایکٹر کے ایوارڈ نے اس کی مقبولیت میں کچھ اور بھی اضافہ کردیا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فریڈی مرکری کی عزت ’اس کی مقبولیت اور اور اس کی عظمت کا راز کیا ہے؟ اس کی زندگی اور فن پر بنائی گئی یہ فلم اس راز سے پردہ اٹھاتی ہے۔

فریڈی مرکری ایک ایسے روایتی پارسی خاندان کا چشم و چراغ تھا جس نے افریقہ سے ہندوستان اور ہندوستان سے انگلستان ہجرت کی تھی۔ فریڈی مرکری کا پیدائشی نام فرخ بلسرا تھا۔ فریڈی کو بچپن سے ہی موسیقی کا شوق تھا۔ اس کا بچپن کا خواب ایک کامیاب موسیقار بن کر ساری دنیا کو اپنی موسیقی سے محظوظ کرنا تھا۔ اس خواب کو شرمندہِ تعبیر کرنے کے لیے اس نے تن من دھن کی بازی لگائی اور ہر طرح کی قربانی دی۔ وہ دن رات موسیقی کی ریاضت کرتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ انتھک محنت اور ریاضت کے بغیر وہ کامیابی کو کبھی گلے نہ لگا سکے گا۔ اسے موسیقی سے عشق تھا اور وہ عشق کے اس راز سے واقف تھا کہ

گر بازی عشق کی بازی ہے، جو چاہو لگا دو، ڈر کیسا

گر جیت گئے تو کیا کہنا، ہارے بھی تو بازی مات نہیں

ریاضت کے بعد فریڈی مرکری کے لیے پہلی آزمائش روایت سے بغاوت تھی۔ فن میں بھی اور زندگی میں بھی۔ جب فریڈی مرکری نے اپنا نام بدلا اور فرخ بلسرا کو الوداع کہہ کر فریڈی مرکری کو گلے لگایا تو اس کی اس بغاوت سے اس کے والد بہت ناراض ہوئے۔ انہوں نے فریڈی کو طعنہ دیا کہ اس نے نام بدل کر اپنے کلچر ’اپنے مذہب اور اپنی مشرقی شناخت سے روگردانی کی ہے۔ فریڈی کے والد نے نصیحت کی وہ زرتشت کے فرمان۔ نیک خیالات۔ نیک الفاظ۔ نیک اعمال پر عمل کرے اور ایک نیک پارسی کی زندگی گزارے۔ روایت سے بغاوت فریڈی مرکری کے لیے اپنی مقبولیت اور عظمت کی طرف پہلا قدم تھا۔

روایت سے بغاوت کے بعد فریڈی مرکری کی دوسری آزمائش شہرت تھی۔ فریڈی کے ایجنٹ نے اس کا تعارف ایک مشہور پروڈیوسر سے کروایا اور پھر مہنگا کنٹریکٹ دلوایا۔ فریڈی اور اس کے بینڈ QUEEN نے ایک چھ منٹ کا گانا BOHEMIAN RHAPSODY تیار کیا۔ پروڈیوسر نے کہا کہ اس گانے کا نام بدلا جائے اور اسے مختصر کیا جائے۔ اس نے کہا کہ ریڈیو پر سب گانے تین منٹ یا اس کے کم دورانیے کے ہوتے ہیں۔ فریڈی نہ مانا اور پروڈیوسر سے لڑ کر چلا گیا۔ فریڈی کو اپنے فن پر اتنا اعتماد تھا کہ اس نے پروڈیوسر سے کہا کہ ایک دن تم اس فیصلے پر پچھتاؤ گے۔

روایت اور شہرت کے بعد فریڈی کی تیسری آزمائش عورت تھی۔ فریڈی جوانی میں ایک عورت کی زلف کا اسیر ہو گیا اور وہ عورت بھی اس کی شخصیت کے سحر میں گرفتار ہو گئی۔ دونوں کی محبت کی شادی بھی ہو گئی لیکن پھر ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے فریڈی کی زندگی بدل دی۔ فریڈی کے عشق میں ایک مرد گرفتار ہو گیا اور فریڈی کے دل میں بھی اس کے لیے محبت کے جذبات سرگوشیاں کرنے لگے جس نے فریڈی کو ایک نفسیاتی اور رومانوی تضاد کا شکار کر دیا۔ آخر فریڈی نے اپنے جسم کے سچ کو قبول کیا اور اپنی بیوی سے کہا I AM BISEXUAL۔ اس اعلان کے بعد اس کی شریکِ حیات اسے بیوی کے طور پر چھوڑ کر چلی گئی لیکن ساری عمر اس کی مخلص دوست رہی۔

روایت ’شہرت اور عورت کے بعد فریڈی کی آزمائش دولت تھی۔ فریڈی کے ایک مرد محبوب نے ایک بڑے ادارے سے اسے چار ملین ڈالر اور دو البمز کا کنٹریکٹ دلوایا۔ لیکن اس کے لیے اسے اپنے بینڈ QUEEN کے ممبروں کو خدا حافظ کہنا پڑا۔

فریڈی کی طلاق یافتہ بیوی نے ایک دوست کی حیثیت سے اسے بتایا کہ اس نے اپنے بینڈ کے ممبروں کو ’جو اس کے مخلص دوست تھے‘ خدا حافظ کہہ کر غلطی کی ہے۔ جب فریڈی کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو اس نے اپنے دوستوں سے معافی مانگی۔

فلم کے آخر میں فریڈی اپنے مرد محبوب کو لے کر اپنے والدین سے ملنے جاتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں روایت اور بغاوت گلے ملتے ہیں۔ وہ اپنے والد سے کہتا ہے کہ وہ زرتشت کے فرمان۔ نیک خیالات۔ نیک الفاظ۔ نیک اعمال۔ پر عمل کرنے اور 1985 کے اس بین الاقوامی کونسرٹ میں حصہ لینے جا رہا ہے جس میں ساری دنیا کے نامی گرامی موسیقار افریقہ کے بھوکے بچوں کے لیے ڈونیشنز جمع کر رہے ہیں اور فریڈی انہیں اپنے فن کا تحفہ پیش کر رہا ہے۔ جب فریڈی مرکری لاکھوں انسانوں کے سامنے سٹیج پر اپنے فن کا مظاہرہ کر رہا ہوتا ہے تو فریڈی کے روایتی والدین اس کی شہرت اور خدمتِ خلق پر فخر کر رہے ہوتے ہیں۔

فریڈی کی کہانی روایتی والدین کے لیے لمحہِ فکریہ اور غیر روایتی بچوں کے لیے ایک INSPIRATION ہے۔

فریڈی کی بدقسمتی یہ تھی کہ وہ جوانی میں ہی ایڈز کا شکار ہوگیا جس کا طب اور سائنس کے پاس کوئی علاج نہیں تھا اس لیے وہ مصطفیٰ زیدی کے ایک شعر پر عمل کرتا ہوا اس دنیا سے رخصت ہوا

اب جی حدودِ سود و زیاں سے گزر گیا

اچھا وہی رہا جو جوانی میں مر گیا۔

فریڈی مرکری کی کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ فنکار کی عزت ’مقبولیت اور عظنمت کا راز ان تھک محنت اور ریاضت‘ روایت سے بغاوت اور دولت اور شہرت کی قربانی میں پوشیدہ ہے۔ فریڈی مرکری ساری عمر اپنے فن کے ساتھ مخلص اور اپنے سچ کے ساتھ وفادار رہتا ہے اور آخر میں موت کو بھی بڑی بہادری اور دلیری سے خوش آمدید کہتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ وہ مرنے کے بعد بھی اپنے فن اور اپنے پرستاروں کے دلوں میں زندہ رہے گا۔

فریڈی مرکری کے پرستار شدت سے اوسکر ایوارڈز کے اعلان کا انتظار کر رہے ہیں۔ وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا اسے گولڈن گلوب کی طرح اوسکر کا بہترین فلم اور ایکٹر کا ایوارڈ ملے گا یا نہیں؟ اس سوال کا جواب جاننے کے لیے آپ بھی انتطار کریں، میں بھی انتظار کر رہا ہوں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here