عشرت آفرین کی شاعری میں ماں کا تصور

0
1082

جن لوگوں نے عشرت آفرین کی شاعری کا سنجیدگی سے مطالعہ کیا ہے وہ بخوبی جانتے ہیں کہ وہ نظریاتی طور پر سوشلسٹ بھی ہیں اور فیمنسٹ بھی۔ ان کی شاعری میں CLASS STRUGGLE اور GENDER POLITICS دونوں تحریکوں کا حسیں امتزاج نظر آتا ہے اسی لیے ان کی شاعری اردو شاعری میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ کشور ناہید کہتی ہیں ’عشرت آفرین کی شاعری ہماری ثقافتی زندگی کا آئینہ ہے‘ ۔

عشرت آفرین کی شاعری کے بہت سے پہلوؤں پر بات کی جا سکتی ہے لیکن میں اس کالم میں صرف ان کی شاعری میں ماں کے تصور پر اپنی توجہ مرکوز کروں گا۔

ہم سب جانتے ہیں کہ

ماں ایک لفظ بھی ہے

ماں ایک انسان بھی ہے

ماں ایک عورت بھی ہے

اور ماں ایک استعارہ بھی ہے محبت کا ’پیار کا‘ اپنائیت کا ’خلوص کا اور قربانی کا۔

عشرت آفرین نے ماں کے تصور میں نئی گہرائی پیدا کی ہے اور اسے عورتوں کی آزادی اور خود مختاری کی جدوجہد کا استعارہ بنایا ہے۔ ان کی پہلی کتاب ’کنج پیلے پھولوں کا‘ کا انتساب اپنی ماں کے نام ہے۔ وہ لکھتی ہیں

انتساب

میرا قد

میرے باپ سے اونچا نکلا

اور میری ماں جیت گئی

ان تین مختصر سطروں میں ایک طویل کہانی رقم ہے۔ عورت کی عظمت کی کہانی۔ اس کی جیت کی کہانی۔ اس کے مستقبل کی بشارت کی کہانی۔ یہ تین لائنیں نسوانی اور فیمنسٹ ادب میں سنہرے الفاظ میں لکھے جانے کے قابل ہیں۔

عشرت آفرین اور باقی فیمنسٹ لکھاریوں میں یہ فرق ہے کہ وہ عورت کی محرومیوں اور مجبوریوں سے زیادہ اس کی دلیری اور بہادری کی بات کرتی ہیں۔ ان کی عورت بیچاری اور لاچار نہیں بلکہ عزت دار اور خود دار ہے۔ وہ محترم ہے۔ وہ معتبر ہے۔ وہ مرد سے برابری سے بات کرتی ہے اور اسے چیلنج کرتی ہے کہ وہ اس کے دھوکے میں نہیں آئے گی۔ وہ مرد سے کہتی ہے کہ وہ اس کی بے عزتی نہیں کر سکتا۔ اس کی توہین نہیں کر سکتا۔ اس کی تذلیل نہیں کر سکتا۔ اس کی ہتک نہیں کر سکتا کیونکہ اس کا تعلق ایک خاص قبیلے سے ہے اور وہ قبیلہ انا کا قبیلہ ہے۔ لکھتی ہیں

میں

یہ انا کے قبیلے کی

سفاک لڑکی

تری دسترس سے

بہت دور ہے

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عشرت آفرین میں یہ خودا داری ’یہ بہادری اور یہ دلیری کہاں سے آئی۔ ان کی انسپریشن کون سی شخصیت تھی۔ کیا وہ کوئی پیر تھا‘ فقیر تھا ’کیا وہ کوئی اوتار تھا پیغمبر تھا۔ عشرت آفرین کہتی ہیں ان کا رول ماڈل ان کی ماں تھی۔

؎ مری انا مرا معیارِ فن نہ ہو کیونکر

یہ فن ملا ہے وراثت میں اپنی ماں سے مجھے

ہم سب جانتے ہیں کہ ساری دنیا میں خاندانی اور معاشرتی طور پر باپ کے مقابلے میں ماں کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی جس کی وہ مستحق ہوتی ہے۔ وہ نو ماہ بچے کو اپنی کوکھ میں پالتی ہے لیکن جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اسے باپ کا نام دے دیا جاتا ہے۔ یہ ایک پدر سری نظام کا المیہ ہے۔

عشرت آفرین جہاں فیمنسٹ خیالات کا اظہار کرتی ہیں وہیں وہ سوشلسٹ نظریات بھی پیش کرتی ہیں۔ وہ جانتی ہیں کہ دنیا کے بہت سے خطوں میں امیروں اور غریبوں کے درمیان خلیج گھٹنے کی بجائے بڑھتی جا رہی ہے کیونکہ دنیا میں ایک سرمایہ دارانہ نظام کی حاکمیت ہے۔

عشرت آفرین نے ان بچوں اور بچیوں کو قریب سے دیکھا ہے جو رات کو بھوکے سو جاتے ہیں اور دن کو تعلیم اور علاج سے محروم رہتے ہیں۔ عشرت آفرین کا بھوک اور غربت سے ایک قریبی رشتہ ہے اسی لیے وہ لکھتی ہیں

؎ خاک میں کھیل کے سب نشوونما پائی ہے

بنتِ افلاس ہوں میں بھوک تو میری ماں تھی

میرے لیے بیتِ افلاس کی ترکیب اور بھوک کو ماں کا درجہ دینا دونوں نئے ہیں۔

عشرت آفرین اس بھوک ’اس افلاس‘ اس غربت اور اس اذیت سے نہ ڈرتی ہیں نہ گھبراتی ہیں بلکہ اس دکھ کی کوکھ سے سکھ کو جنم دیتی ہیں۔ نفسیات کی زبان میں ہم اسے SUBLIMATION کہتے ہیں جو ایک صحتمند سوچ کی عکاسی کرتا ہے لکھتی ہیں

ساتھی

اے جیون کے پیارے دکھ

میرے اندر دیا جلانا

بجھ مت جانا

عشرت آفرین جانتی ہیں کہ بھوک اور غربت کے خلاف جنگ چند سالوں اور دہائیوں کی جنگ نہیں بلکہ کئی نسلوں اور صدیوں کی جنگ ہے۔ وہ ایک آزاد اور خودمختار انسان کا خواب دیکھتی ہیں اور جانتی ہیں کہ ایک عادلانہ نظام اور منصفانہ معاشرہ اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتا جب تک ہم سب فرسودہ نظام سے چھٹکارا حاصل نہیں کریں گے۔ اسی لیے وہ اپنی نظم ’رہائی‘ میں لکھتی ہیں

اسیر لوگو

اٹھو

اور اٹھ کے پہاڑ کاٹو

پہاڑ مردہ روایتوں کے

پہاڑ اندھی عقیدتوں کے

پہاڑ ظالم عداوتوں کے

ہمارے جسموں کے قید خانوں میں

سینکڑوں بے قرار جسم

اور۔ اداس روحیں سسک رہی ہیں

وہ زینہ زینہ بھٹک رہی ہیں

ہم ان کو آزاد کب کریں گے

ہمارا ہونا ہماری آنے والی نسلوں کے واسطے ہے

ہم ان کے مقروض ہیں

جو ہم سے وجود لیں گے

نمود لیں گے

عشرت آفرین کا سفر ایک بیٹی ہونے سے شروع ہوتا ہے اور ایک ماں بننے پر ختم ہوتا ہے۔ انہوں نے جو آدرش اور خواب اپنی ماں سے وراثت میں پائے تھے وہ انہیں اپنی بیٹی کو وراثت میں دینا چاہتی ہیں۔ وہ جانتی ہیں کہ ان کی بیٹی ’جو اگلی نسلوں کی نمائندگی کرتی ہے‘ ذہین ہے ’عقلمند ہے‘ دانا ہے اور صاحب الرائے ہے۔ وہ اتنی سیانی ہے کہ اپنی ماں سے بھی اختلاف الرائے کر سکتی ہے۔ عشرت آفرین لکھتی ہیں

ایک سچ

خواتین کے عالمی دن

میں نے اپنی بیٹی کو

اپنی تازہ نظم سنا کر

داد طلب نطروں سے دیکھا

اس پل

اس کی آنکھیں

ایسی طنز بھری مسکان لیے تھیں

جیسے مجھ سے کہتی ہوں

ماں تم جھوٹی ہو؟

عشرت آفرین ایک سوشلسٹ اور فیمنسٹ ہونے کے ساتھ ساتھ PEACE ACTIVIST بھی ہیں۔ عشرت آفرین جانتی ہیں کہ بیسویں صدی کی ان گنت جنگوں میں ہزاروں لاکھوں معصوم مرد ’عورتیں اور بچے مارے گئے اور خون کی ندیاں بہہ گئیں۔ عشرت آفرین جنگ کے خلاف احتجاج کرتی ہیں اور امن کے حق میں نظمیں لکھتی ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اس امن کے پیغام میں بھی وہ ماں کے کردار کو نہیں بھولتیں۔ وہ جنگ کرنے والوں کو یاد دلاتی ہیں

جنگ کرنے والوں کو ’کاش یہ خبر ہوتی

کن دکھوں سے پالا ہے ’ماں نے ایک بیٹے کو

عشرت آفرین کی ماں۔ محبت اور قربانی کا ہی نہیں امن کا استعارہ بھی ہے۔ وہ استعارہ ایک ایسا ستارا ہے جو اردو شاعری میں پہلی دفعہ اس آب و تاب سے چمکا ہے۔

میں نے اس کالم میں عشرت آفرین کی شاعری کے اندر جو بہت سی دنیائیں آباد ہیں ان کی صرف چند جھلکیاں دکھائی ہیں تا کہ قارئین کو ان کی شاعری کو سنجیدگی سے پڑھنے کی تحریک ہو۔

عشرت آفرین کی شاعری ہمارے عہد کی ایک توانا اور پرامید آواز ہے۔ وہ ہمارے دور کے عذاب بھی اجاگر کرتی ہے اور خواب بھی۔ اسی لیے علی سردار جعفری عشرت آفرین کی شاعری کے بارے میں لکھتے ہیں

’ اس شاعری کا حسن بے جا تکلف اور غیر ضروری آرائش سے پاک ہے۔ جذبہ اور احساس کی صداقت ہی اس کے حرف کی صداقت ہے۔ وہ شاعری جو اس عہد کی آواز ہے اور مستقبل میں وہی آواز زندہ رہتی ہے جو اپنے عہد میں اپنا جواز حاصل کر لیتی ہے‘

میں عشرت آفرین کی شاعری کا بڑا مداح ہوں اور انہیں اتنی بامعنی اور تہہ دار غزلیں اور نظمیں لکھنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ میری یہ بھی خوش قسمتی ہے کہ ان سے میری چند ملاقاتیں بھی ہوئی ہیں اور انہوں نے اپنی کلیات ’زرد پتوں کا بن‘ مجھے تحفے کے طور پر بھیجی ہے جس کی نظمیں اور غزلیں میں اپنے دوستوں کو بڑے شوق اور فخر سے سناتا ہوں۔

۔ ۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here