آپ کس قسم کے ماں باپ بننا چاہتے ہیں؟

0
631

بعض بچے اپنے ماں باپ سے محبت کرتے ہیں اور بعض نفرت

بعض بچے ماں باپ کا احترام کرتے ہیں اور بعض ان سے خوف زدہ رہتے ہیں۔

بعض نوجوان گھر سے جانے کے بعد بھی گھر واپس آنے کا انتظار کرتے رہتے ہیں اور بعض نوجوان اپنے والدین کے ساتھ رہتے ہوئے بھی اس دن کا انتظار کرتے رہتے ہیں جب وہ گھر سے بھاگ جائیں گے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہے؟

انسانی نفسیات کے طالب علم ہونے کے ناطے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ انسانی نفسیات اور رشتوں کے کچھ اصول ہیں جو سب انسانوں کے لیے ہیں چاہے وہ مشرق کے ہوں یا مغرب کے‘ شمال کے ہوں یا جنوب کے‘ مذہبی ہوں یا غیر مذہبی۔

وہ والدین جو اپنی مرضی سے شادی کرتے ہیں‘ اپنی خوشی سے بچے پیدا کرتے ہیں اور پھر ان کی تعلیم و تربیت میں ذوق و شوق سے حصہ لیتے ہیں ‘وہ بچوں کے ساتھ کھیلتے ہیں‘ ان کے ساتھ سکول جاتے ہیں‘ ان کے اساتذہ سے ملتے ہیں‘ ان کے مسائل میں دلچسپی لیتے ہیں‘ ایسے والدین سے بچے پیار کرتے ہیں‘ ان پر اعتماد کرتے ہیں‘ ان پر اعتبار کرتے ہیں اور جب انہیں مسائل کا سامنا کرنا پڑے تو اپنے والدین سے مشورہ کرتے ہیں اور ان کی رائے کا احترام کرتے ہیں۔

ایسے والدین کے مقابلے میں وہ والدین جو خاندان کے دبائو تلے شادی کرتے ہیں‘ اپنی مرضی کے بغیر بچے پیدا کرتے ہیں‘بچوں کی ذمہ داری نہیں لیتے‘ان کے ساتھ نہیں کھیلتے‘ ان کے اساتذہ سے نہیں ملتے اور ان کا احترام نہیں کرتے ایسے بچے بڑے ہو کر ماں باپ کا احترام نہیں کرتے بلکہ ان کے خلاف بغاوت کرتے ہیں۔

نفسیاتی حوالے سے والدین اور بچوں کا رشتہ وقت کے ساتھ ساتھ بدلتا رہتا ہے۔ چار سال کے بچے‘ چودہ سال کے نوجوان اور چوبیس سال کے جوان کا والدین سے رشتہ مختلف ہوتا ہے۔

ایک دفعہ میرے والد عبدالباسط نے میری والدہ عائشہ کو بلا کر کہا کہ اس چوزوں کی ماں اس مرغی کو دیکھو جب یہ چوزے چھوٹے تھے تو یہ انہیں بلا کر دانا دنکا کھلاتی تھی اور اب یہ بڑے ہو گئے ہیں تو دانا دنکا ہونے کے باوجود انہیں ٹھونگے مار کر بھگا رہی ہے تا کہ یہ چوزے خود اپنا دانا دنکا تلاش کریں۔ میرے والد نے میری والدہ سے کہا کہ کاش انسانی مائیں اس چوزوں کی ماں سے یہ سبق سیکھیں کہ جب بچے جوان ہو جائیں تو انہیں آزاد و خود مختار ہونے میں ان کی مدد کریں اور اپنا جذباتی آنول کاٹ دیں۔

اگر ماں باپ جوان بیٹوں اور بیٹیوں کے ساتھ بھی بچوں جیسا سلوک کریں گے تو وہ ذہنی طور پر کبھی بھی بالغ نہیں ہوں گے۔ اپنی زندگی کے فیصلے نہیں کرپائیں گے‘ پھر ان فیصلوں کے نتائج کی ذمہ داری نہیں لیں گے اور جب حالات بگڑیں گے تو دوسروں کو الزام دیں گے۔

جب انسان عاقل و بالغ ہوتے ہیں تو وہ دانائی کے فیصلے کرتے ہیں اور پھر ان فیصلوں پر فخر کرتے ہیں۔ ان فیصلوں میں یہ شامل ہے کہ وہ

کہاں رہیں گے؟
کس کے ساتھ رہیں گے؟
کیسی ملازمت کریں گے؟
کس سے شادی کریں گے؟
کس کو دوست بنائیں گے؟
اور
کیسے مشاغل اپنائیں گے؟

نفسیاتی طور پر یہ فیصلے ایک صحتمند‘ خوشحال اور پرسکون زندگی گزارنے کے لیے اہم ہیں۔

انسان فرشتے نہیں ہیں وہ غلطیاں کرتے ہیں لیکن دانا لوگ اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہیں اور پھر آئندہ بہتر فیصلے کرتے ہیں۔ محبت کرنے والے دانا والدین اپنے بچوں سے ان کی غلطیوں سمیت محبت کرتے ہیں اور ان غلطیوں سے سبق سیکھنے میں ان کی مدد کرتے ہیں تا کہ جب وہ اس دنیا سے چلے جائیں تو انہیں یقین ہو کہ ان کے جوان بچے اپنا خیال خود رکھ سکیں گے ورنہ وہ ساری عمر اپنے والدین کے محتاج رہیں گے۔ جب ماں باپ اچھے رول ماڈل ہوں تو بچے ماں باپ پر اور ماں باپ اپنے بچوں پر فخر کرتے ہیں اور ایک نسل کی دانائی اگلی نسل تک منتقل ہوتی ہے۔

جب میرے والد حیات تھے تب میں اپنے والد سے محبت کرتا تھا اور اب وہ فوت ہو گئے ہیں تو میں ان پر فخر کرتا ہوں۔ جب میں نوجوان تھا تو ہم شام کے کھانے کے بعد سنجیدہ مکالمہ کیا کرتے تھے۔ وہ ایک مذہبی اور میں ایک سیکولر شخص تھا۔ ہم ایک دوسرے سے اختلاف رائے کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کرتے تھے۔ ہم دونوں اپنے اپنے نظریے سے مخلص تھے۔ اگرچہ میرے والد اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں لیکن اب بھی میں ان کے بارے میں سوچتا ہوں تو میرے دل میں ان کے لیے محبت اور عزت کے جذبات سرگوشیاں کرتے ہیں۔ میرے والد فرمایا کرتے تھے ’اگر تم چاہتے ہو کہ دوسرے انسان تمہاری رائے کا احترام کریں تو تمہیں بھی ان کی رائے کا احترام کرنا ہو گا۔‘

ایک انسان دوست ہونے کے ناطے میں سمجھتا ہوں کہ تمام جینوئن مذہبی‘ روحانی اور سیکولر روایات کی قدرِ مشترک احترامِ انسانیت ہے۔ ہمارے بچے بھی انسان ہیں اگر ہم بچپن میں ان کا احترام کریں گے تو وہ جوان ہو کر ہمارا احترام کریں گے۔ یہ انسانی نفسیات کا اصول ہے چاہے والدین مذہبی ہوں یا غیر مذہبی، مشرقی ہوں یا مغربی۔
خوش قسمت ہیں وہ والدین اور وہ بچے جو ایک دوسرے سے محبت ہی نہیں ایک دوسرے کی رائے کا احترام بھی کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here